پی ایس ایل 2018-19 کرکٹ

پی ایس ایل سیزن 4 کا ہوا اختتام نیا نوجوان ٹیلنٹ، نیا جوش اور ولولہ

دنیا بھر میں لیگ کرکٹ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ سلسلہ ٹی ٹوئنٹی سے شروع ہوا اور اب ٹی ٹین یعنی صرف دس اوورز کی کرکٹ تک جا پہنچا ہے۔ اس وقت دنیا کی تمام بڑی انٹرنیشنل ٹیم کی اپنی اپنی لیگ ہے، جس میں آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ، انڈیا کی انڈین پریمیئر لیگ، ویسٹ اینڈیز کی کیریبین پریمیئر لیگ شامل ہے، ایک طرف جہاں فرنچائز کرکٹ کا مقصد خوب سارا پیسہ کمانا ہے وہیں اپنے لوکل پلیئرز خصوصًا ”نوجوان کھلاڑیوں“ کے لئے بین الاقوامی معیار کا پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے جہاں وہ اپنا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے دکھا سکیں۔

پاکستان میں لیگ کرکٹ کی ابتداء 2016 میں ہوئی جب پہلی دفعہ متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان سپر لیگ کا میلا سجایا گیا اور پھر اگلے تین ایڈیشن بھی ان ہی میدانوں میں منعقد ہوئے، البتہ دوسرے ایڈیشن کا فائنل، تیسرے ایڈیشن کا پلے آف مرحلہ اور فائنل جبکہ چوتھے ایڈیشن میں پلے آفس اور فائنل سمیت دوسری لیگ کے آخری تین میچز بھی پاکستان میں کھیلے گئے

پی ایس ایل کے چاروں ایڈیشن پر نظر دوڑائی جائے تو ان سب میں ایک چیز مشترک ہے یعنی ”نوجوان ٹیلنٹ“ کا سامنے آنا، بات ہو شاداب خان، حسن علی یا شاہین شاہ آفریدی کی، یا ذکر ہو حسین طلعت، آصف علی اور محمد نواز کا، یہ تمام ہی وہ نوجوان کرکٹرز ہیں جنہیں پی ایس ایل کے ذریعے میدان میں گرین کیپ پہن کر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا

تینوں سیزن کی طرح اس سال بھی نئے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار پرفارمنس دکھائی، جس میں کراچی کنگز کے عمر خان، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد حسنین، لاہور قلندرز کے حارث رؤف اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد موسٰی شامل ہیں۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے آف اسپنر عمر خان اس دفعہ سب کی توجہ کا مرکز رہے، ١٨ سالہ عمر خان نے نہ صرف اپنی گھومتی گیند سے شین واٹسن، اے بی ڈی ویلیئرز اور لیوک رانکی جیسے خطرناک بیٹسمین کو ناکو چنے چبوائے بلکہ صرف 11 میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کرکے ٹاپ 5 بالرز کی فہرست میں جگہ بھی بنائی، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے محمد حسنین نے اپنی برق رفتار گیندوں سے شعیب اختر، وقار یونس، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت چیف سلیکٹر انضمام الحق سب ہی کو حیران کردیا، حیدرآباد کے 18 سالہ حسنین نے 7 میچوں میں 12 شکار کیے اور ساتھ یو اے ای میں پاکستان کی آسٹریلیا سے اگلی ون ڈے سیریز کے لئے 15 رکنی اسکواڈ میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے، لاہور قلندرز ”پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام“ کی دریافت گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ حارث رؤف نے بھی فاسٹ بالنگ میں اپنی اہلیت ثابت کردی، کراچی کنگز کیخلاف میچ میں ایک اہم موڑ پر چار قیمتی وکٹیں حاصل کرکے حارث نے اپنے میچ وننگ اسپیل سے خود کے اور پاکستان میں فاسٹ بالنگ کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ دے دیا، حارث نے 10 میچوں میں 11 بیٹسمین کو پولین کی راہ دکھائی،2017 انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نوجوان فاسٹ بالر محمد موسٰی اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بنے جہاں انہیں 7 میچز کھیلنے کا موقع ملا اور وہ 7 ہی وکٹ لینے میں کامیاب رہے البتہ ”ٹو کرشر“ وقار یونس کے مطابق موسٰی میں ایک اچھے اور معیاری فاسٹ بالر والی تمام صلاحیتیں موجود ہیں،

حالیہ ایڈیشن میں جہاں بالرز نے اپنی پرفارمنس سے سب کو متاثر کیا وہیں دوسری جانب کوئی بھی نیا نوجوان بلے باز خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا، جبکہ پاکستان سپر لیگ کے چاروں ایڈیشن میں اب تک وکٹ کیپر بیٹسمین بھی سامنے نہ آسکا، جو پاکستان کرکٹ کے لئے خطرے کی ایک علامت ہے،

پی سی بی مینیجمنٹ اور پی ایس ایل انتظامیہ آئندہ آنے والے سیزن میں ان مشکلات سے نمٹنے کے لئے کیا پلان کرتی ہے؟ کیا ایمرجنگ کیٹیگری میں بلےبازوں کے لئے کوئی خاص پالیسی تشکیل دی جائے گی؟ یا کوئی ایسا قانون متعارف کروایا جائے گا جس میں نوجوان بیٹسمین کو زیادہ سے زیادہ مواقع مل سکیں؟ یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کو پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن تک حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کرکٹ کو اسپنرز اور فاسٹ بالرز کے ساتھ ساتھ نئے نوجوان بیٹسمین اور وکٹ کیپر بھی ملنا شروع ہوجائیں۔

روبیس علی

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 202 911 other subscribers