پی ایس ایل 2018-19 کرکٹ

جنوبی پنجاب کی قسمت جاگ گئی!

کرکٹ پاکستانیوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے اور خیبر سے لے کر گوادر تک ہر پاکستانی اس کھیل کے عشق میں مبتلا ہے ۔پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح کرکٹ کی دیوانگی جنوبی پنجاب میں بھی رچی بسی ہے مگر اس خطے میں اس کھیل کے حوالے سے بنیادی سہولیات کی کمی تھی جو صلاحیت کے راستے میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔مگر اب جنوبی پنجاب کی قسمت جاگ گئی ہے کیونکہ اسی خطے کے ایک سپوت نے محرومیوں کے خاتمے کا بیڑہ اُٹھا لیا ہے۔
نوجوان سیاست دان اور کاروباری شخصیت علی خان ترین نے پاکستان سپر لیگ کے اگلے ایڈیشن کیلئے چھٹی ٹیم کے مالکانہ حقوق حاصل کرلیے ہیں اور اب پی ایس ایل میں یہ ٹیم ملتان کے نام سے شرکت کرے گی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں نیا کیا ہے؟ملتان کی ٹیم گزشتہ برس بھی پی ایس ایل کا حصہ تھی اور اگر اب دوبارہ یہ ٹیم پی ایس ایل میں کھیل رہی ہے تو فرق کیا ہوا؟یہ درست ہے کہ پچھلے سال بھی پی ایس ایل میں ایک ٹیم نے ملتان کے نام سے شرکت کی مگر یہ شرکت صرف نام تک محدود تھی کیونکہ ملتان کی اُس ٹیم کے مالکان اس خطے سے واقف نہیں تھے جنہوں نے ایک ماہ کے دوران پی ایس ایل میں اپنی ٹیم سے اچھی کارکردگی حاصل کرنے کیلئے جتن ضرور کیے مگر جنوبی پنجاب میں کرکٹ کے فروغ کیلئے کچھ کام نہیں کیا اور جنوبی پنجاب کے نوجوان کرکٹرز یہ شکایت ہی کرتے رہ گئے کہ اُن کے علاقے کے نام پر کھیلنے والی ٹیم میں اُن کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے مگر اب صورتحال مختلف ہے۔
علی خان ترین کا تعلق اسی جنوبی پنجاب سے ہے اوروہ گزشتہ چند برسوں سے جنوبی پنجاب میں کرکٹ کے فروغ کیلئے سرگرم عمل ہیںاور یہی وجہ ہے کہ جب علی ترین نے چھٹی ٹیم کے مالکانہ حقوق حاصل کیے تو اس علاقے کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم حاصل کرنے کے بعد علی ترین کا بھی یہی کہنا تھا کہ ٹیم خریدنے کا مقصد جنوبی پنجاب میں کرکٹ کا فروغ ہے کہ جس طرح ماضی میں اس خطے نے پاکستان کو سپر اسٹارز دیے ہیں بالکل اسی طرح آنے والے برسوں میں بھی پاکستانی ٹیم کو جنوبی پنجاب سے کھلاڑی میسر آئیں گے اور پی ایس ایل میں ملتان کی ٹیم ایسا پلیٹ فارم ہوگا جہاں اس خطے کے نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔
علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تجویز پیش کی ہے کہ ہر سال پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے قبل پاکستان میں لوکل پی ایس ایل بھی منعقد کروائی جائے جس میں پاکستانی اسٹارز کیساتھ ساتھ مقامی کھلاڑیوں کو شرکت کا موقع دیا جائے تاکہ صحیح معنوں میں علاقائی کرکٹ کو فروغ مل سکے اور پاکستان کو ہر سال باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کی ایک کھیپ میسر ہوسکے۔ علی ترین خود بھی چند برسوں سے جنوبی پنجاب میں ایک کرکٹ لیگ کا انعقاد کررہے ہیں جس میں نوجوانوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور اس لیگ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو انگلینڈ میں ہونے والی ورلڈ سیریز لیگ میں شرکت کیلئے بھیجا جاتا ہے جہاں ان نوجوانوں کو دیگر ممالک کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔اس کیساتھ ساتھ www.grassrootscricket.pkایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاںعلی ترین گراس روٹ سطح پرکرکٹ کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں ۔
پاکستان سپر لیگ کی چھٹی ٹیم ملتان کے نام پر خرید کر علی ترین نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کوکامیابی کا راستہ دکھا دیا ہے کہ اب جنوبی پنجاب کے نوجوان کرکٹرز کو وہ تمام تر سہولیات اور مواقع ملیں گے جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ پاکستانی ٹیم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ علی ترین نے صرف پی ایس ایل کی ٹیم ہی نہیں خریدی بلکہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہر پاکستانی کے دل بھی جیت لیے ہیں!

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 203 316 other subscribers