خبریں کرکٹ

احسان مانی ، کس کی مانی ؟ کس کی نہ مانی؟

اگر چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی سوانح حیات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو محض سیٹ کے مزے نہیں لوٹتے بلکہ اپنے عہدے کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور اپنے موقف پر ڈٹ جائیں تو کوئی مائی کا لعل ان کو کیے گئے فیصلے سے یو ٹرن کے لیے  قائل نہیں کر سکتا ،،، وہ آئی سی سی میں تھے تو بگ تھری کی مخالفت پر ڈٹ جانا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے،، ان کی لاہور میں پہلی پریس کانفرنس سے مجھے یہ تاثر ملا کہ وہ میڈیا سے ذرا دور رہیں گے اور اپنے ترجمان کے ذریعے ہی میڈیا سے رابطے میں رہیں گے اور لاہور کی حد تک تو میرا قیافہ ابھی تک درست رہا کیونکہ پی سی بی کے بڑے لاہور میڈیا کو دہی بھلے کھلا کر ہی خوش کر لیتے ہیں اور بڑی سے بڑی خبر پر مٹی ڈلوا دیتے ہیں ،،، مجھے بڑے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ لاہور سپورٹس میڈیا خبر اور تحقیق کی بجائے ذاتی تعلقات کو ذیادہ ترجیح دیتا ہے جسکی وجہ سے لاہور اب خبر اور خبریت کا مرکز نہیں رہا اور پی سی بی کے دائمی مگر مچھ اندر کی خبر کراچی میڈیا کو دیتے ہیں کیونکہ 90 فیصد میڈیا اداروں کے ہیڈ آفسز کراچی میں ہیں ،،، لہذا میری طرح لاہور میں اگر کوئی تحقیق کرنے کی کوشش کرے یا سچی خبر دے تو پی سی بی کراچی میں اپنے پیاروں کے ذریعے اس کی نوکری ہی داو پر لگا دیتے ہیں ،، اس لیے لاہور میڈیا نے پی سی بی سامنے گھٹنے ٹیک دیے
آجکل متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ اپنی پوری آب و تاب سے جاری ہے جہاں ہماری قومی ٹیم کی ابھی تک کی کارکردگی کی نہ تعریف کی جا سکتی ہے نہ تعریف مگر چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے بیانات خاصے دبنگ نظر آ رہے ہیں،،، انہوں نے کراچی کے معتبر صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کو ایشیا کپ کا شیڈول تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا،،، یہ کیسے ممکن ہے بھارت اپنے سب میچ دوبئی میں کھیلے اور باقی ٹیمیں دو وینیوز پر ؟ تو جناب مانی صاحب اس کا جواب آپکو میں دے سکتا ہوں کہ امن کی آشا کے علمبردار نجم سیٹھی نے بھارتی بورڈ کے سامنے ایسے ہی گھٹنے ٹیکے ہوئے تھے جیسے لاہور میڈیا نے پی سی بی سامنے،،،، سیٹھی صاحب نے یہ شیڈول بھارتی لولی پاپ کہ پاک بھارت سیریز جلد ہی ممکن ہوگی ،،، مان لیا ہوگا اور ہمارے سی او او جناب سبحان احمد تو محض مسکراہٹ کے علاوہ کچھ اور کرتے نہیں اور آج تک کسی بھی فیصلے پر ان کی جانب سے ڈٹ جانے کی ایک بھی مثال سامنے نہیں آئی حالانکہ وہ پی سی بی میں اتنے ہی پرانے ہیں جتنے قزافی اسٹیڈیم کے ارد گرد لگے درخت

احسان مانی صاحب نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ ورلڈکپ تک کپتان اور کوچ کا فیصلہ ہو چکا ہے لہذا وہ اس فیصلے کا احترام کریں گے اور سرفراز احمد اور مکی آرتھر کو ان کے عہدوں سے نہیں ہٹایا جائے گا ،، چیئرمین پی سی بی کے اس اعلان کو سن کو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی کیونکہ ابھی تک یہی معلوم پڑ رہا ہے کہ پتلیاں وہیں ہیں ہاں ان کو چلانے والے بدل گئے ہیں ،،، محض ذاکر خان کی جانب سے دو تگڑے فیصلے سامنے آئے جب انہوں نے ٹیم کے ننھے منے اسسٹنٹ منیجر کی جگہ پاکستان  کے کہنہ مشق اور صاف نیت کے حامل منصور رانا کو ٹیم کا اسسٹنٹ منیجر مقرر کیا،،، منصور رانا پر کراچی بیس سے بڑے میزائل داغے جارہے ہیں جبکہ یہی میزائل بردار اس وقت منصور رانا کی صلاحیتوں کے معترف  تھے جب منصور رانا کی کوچنگ اور سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستان انڈر 19  کا ورلڈ چیمپیئن بنا ،،، منصور رانا کو اس وقت پاکستان کا بہترین کوچ کہا گیا جب ان کی کوچنگ میں ویمن ٹیم ایشیئن چیمپیئن بنا،،، میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پی سی بی کو چاہیے کہ تمام سپورٹس جرنلسٹس کو لیول ون کوچنگ کرایا جائے تاکہ ان کو معلوم پڑ سکے کہ کوچ کی خوبیوں میں اولین خوبی یہ بھی ہے کہ اس کو بہترین منیجر ہونا چاہیے لہذا اگر سیٹھی صاحب کا عزیزیَ نو عمر کو ہٹایا گیا ہے تو اس پر واویلا کسی دیے گئے ایجنڈے کا حصہ لگتا ہے،،،

پھر ذاکر خان نے سیٹھی صاحب کے دور کے کنگ آف دی پی ایس ایل رنگ  کا شعبہ تبدیل کرکے ان کی اونچی پرواز کو پرواز بطخ میں تبدیل کیا ،، عثمان واہلہ پر بھی ان کی ڈگری کے حوالے سے بڑی تنقید ہوئی مگر سیٹھی صاحب اس تنقید کو ایسے ہی لیا جیسے انہوں نے لاہور میڈیا کو ایزی لیا،،، مگر اس دوران عثمان واہلہ نے ڈگری بھی حاصل کر لی اور یوں ان پر یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا

واپس آتے ہیں کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی صاحب  اور ان کی کراچی کے دو مہان صحافیوں سے گفتگو کی جانب جسمیں انہوں نے اعلان کیا کہ تین ماہ میں پی سی بی کے منچلے افسران کو گھر بھیج دیا جائے گا اگر انہوں نے  ہمارے طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے آپ کو نہ ڈھالا تو جناب پھر آپ بالکل بے فکر رہیں ،،، ان دائمی افسران کی کامیابی کا یہی تو راز ہے کہ یہ سٹار فش کی طرح کہ ہیں کہ اگر ان کا ایک پر کٹ جائے تو وہ چند ہی دنوں میں دوبارہ نکل آتا ہے،،، مانی صاحب اگر آپ نے انکے چند پر کاٹ بھی دیے تو چند دنوں میں انکے وہ پر نکل آئیں گے جو آپکی پالیسی کے تابع ہونگے
پی سی بی کے سربراہ بھی پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کی طرح ٹی ٹین لیگ کے مخالف دکھائی دے رہے ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ایسی لیگ میں اپنے کھلاڑیوں کو نہیں بھیجیں گے جس کو چلانے والے اچھی ساکھ کے مالک نہیں   تو جناب پھر تو آپ کے لیے پی ایس ایل چلانا بھی بڑا مشکل ہوجائے گا کیونکہ ابھی تک یہی تاثر ہے کہ پی ایس ایل وہی پتلیاں چلائیں گی جو نجم سیٹھی جاتے ہوئے پی سی بی میں ہی چھوڑ گئے اور ان کی ٹیم کے انتظامی امور پی ایس ایل تھری جس برے طریقے سے ناکام ہوئے ہیں اس پر بریفنگ آپکو دی جا چکی ہوگی،،، میٹنگز کی تصاویر میں جب ان ہی چہروں کو دیکھتا ہوں تو شک سا گزرتا ہے کہ یہ پتلیاں کہیں اپنے پرانے آقا کی کسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کوئی ایسا اقدام نہ کر گزریں جو پی ایس ایل کے لیے ایسی مشکلات پیدا کر دیں جو ناقابل تلافی ہوں اور پی سی بی حکام ہاتھ ملتے رہ جائیں

چیئرمین پی سی بی کا یہ اعلان میرے خاصا چونکا دینے والا تھا کہ میں نے عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان چلائیں میں پاکستان کرکٹ بورڈ چلاوں گا ،،،،  شروعات میں یہ کہہ چکا ہوں کہ مانی صاحب جس فیصلے پر ڈٹ جائیں اس سے پیچھے نہیں ہٹتے اور آپ سب کے علم میں ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی 92 ورلڈکپ کے ہیروز نے بنی گالا پہلے آو پہلے پاو کی بنیاد پر حاضری دی اور اپنے کپتان کو اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا،،، پھر جب عمران خان کی وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی تو 92 ورلڈکپ کے محض سات کھلاڑیوں کو مدعو کیا جب کہ عامر سہیل ،، سلیکٹر وسیم حیدر، اعجاز احمد سمیت کچھ ہیروز کو مدعو نہیں کیا گیا ،،، کیوں نہیں کیا گیا تو اس کا اندازہ آپ سب کو ہے اس کی تفصیل میں جانا آج کے کالم کے متصادم ہوگا
یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان اپنے فرینڈز کو ان کی خواہش کے مطابق پی سی بی یا کسی اور شعبے میں خدمت کا موقع نہ دیں  تاہم وسیم اکرم اور عاقب جاوید یہ کہہ چکے ہیں ہم کوئی عہدہ نہیں لیں گے،،،،میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ فیصلہ سازی میں محض مانی صاحب کی نہیں مانی جائے گی بلکہ طاقت کا سر چشمہ ذاکر خان، جاوید آفریدی اور احسان مانی ہونگے اور پی سی بی کے بڑے فیصلے بھی یہی افراد کریں گے ،، اپنے موقف پہ ڈٹ جانا اگر مانی صاحب کی روایت رہی ہے تو عمران خان کی وجہ مقبولیت بھی یہی ہے ،،، اگر تو چیئرمین پی سی بی کا اعلان مان لیا جائے کہ وزیر اعظم کو کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان چلائیں میں پاکستان کرکٹ بورڈ چلاوں گا تو خدشہ ہے کہ وزیر اعظم کسی نا اہل فرد کی سفارش نہ کر بیٹھیں کیونکہ ایسی صورت میں مانی صاحب اگر ڈٹ گئے تو پی سی بی اور حکومت میں تصادم کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور ایسے موقع پر جب نیا پاکستان زیر تعمیر ہے پاکستان کرکٹ بورڈ منہدم کیا جا سکتا ہے

کیونکہ ایک بات تو طے شدہ ہے کہ کئی راہ گیر پی سی بی میں  پناہ گیر  کی حیثیت سے داخل ہونے کر صلاح گیر بننے کے خواہاں ہیں

تحریر: آفتاب تابی

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 174 134 other subscribers