کرکٹ

مشقت کے بغیر مشق!

تیسرا ون ڈے اور تیسری شکست …کینگروز کیخلاف ایک اور باہمی سیریز میں گرین شرٹس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور اب ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں آسٹریلین ٹیم آخری دو میچز جیت کر وائٹ واش نہ کردے مگر قومی ٹیم کے کپتان مطمئن ہیں کہ اس سیریز کا مقصد کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ بنچ پر موجود کھلاڑیوں کو آزمانا ہے۔
2002ء میں آخری مرتبہ آسٹریلیا کو باہمی سیریز میں زیر کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم اپنی تمام تر طاقت کے باوجود کینگروز کو زیر نہیں کرسکی اور حالیہ سیریز میں تو شاہین کٹے ہوئے پروں کیساتھ کینگروز کا مقابلہ کررہے ہیں مگر حسب روایت شکستوں پر تنقید کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔
مجھے ذاتی طور پر اس بات پر قطعی بھی اعتراض نہیں ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل اہم کھلاڑیوں کو آرام کیوں کروایا گیا؟ریگولر کپتان کی جگہ ایسے کھلاڑی سے کپتانی کیوں کروائی جارہی ہے جو اپنے کیرئیر کے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکا ہے ؟بنچ پر موجود کھلاڑیوں کو اس سیریز میں موقع کیوں دیا جارہا ہے؟اگر اعتراض ہے تو صرف جیت کے جذبے کی کمی کا…اگر اعتراض ہے تو ٹیم اسپرٹ کی کمی کا…اگر اعتراض ہے تو ٹیم کیلئے کھیلنے کی بجائے انفرادی کارکردگی دکھانے کی کوشش پر
اہم کھلاڑیوں کو آرام کروانا اور بنچ پر موجود کھلاڑیوں کو آزمانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اکثر و بیشتر بھارتی ٹیم ویرات کوہلی سمیت چند اہم کھلاڑیوں کو آرام کرواتے ہوئے نئے خون کو موقع دیتی ہے اور اسی طرح پاکستان کیخلاف جنوبی افریقہ نے بھی ون ڈے سیریز میں روٹیشن پالیسی کو اپنایا مگر اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود ٹیموں کی پالیسی نہیں بدلتی، جیت کا جذبہ ختم نہیں ہوتا، خود غرضی کیساتھ انفرادی کارکردگی دکھا کر ٹیم میں جگہ پکی کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ نئے کھلاڑی اور کپتان دوگنی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب ٹیم کے ریگولر کھلاڑی واپس آئیں تو سلیکٹرز اس مشکل سے دوچار ہوجائیں کہ سیکنڈ اسٹرنگ کے کھلاڑیوں کو کس طرح باہر کریں جنہوں نے ملنے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے مگر آسٹریلیا کیخلاف کھیلتے ہوئے موجودہ قومی ٹیم میں جیت کا جذبہ اور ٹیم ورک دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا۔
اگر سرفراز وکٹوں کے پیچھے کھڑے ہوکر اپنے کھلاڑیوں کا مورال بلند کرسکتے ہیں تو رضوان کو ایسا کرنے میں کیا مشکل پیش آرہی ہے؟اگر بابر اعظم ٹاپ آرڈر میں فتح گر اننگز کھیل سکتے ہیں تو اب ایسی باری امام یا شان کے بلے سے کیوں نہیں نکل رہی؟شادان خان کی لیگ اسپن بولنگ مخالف بیٹسمینوں کیلئے درد سر بن سکتی ہے تو یاسر شاہ بیٹسمینوں کو انگلیوں پر کیوں نہیں نچا سکتے؟اگر حسن علی کی موجودگی سے پیس اٹیک کی قوت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے تو پھر عامر، عباس یا جنید ایسا کیوں نہیں کرپارہے؟
جواب نہایت آسان ہے کہ کپتان اور اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی سے جیت کا جذبہ اور ٹیم ورک بھی رخصت ہوگیا ہے۔ موجودہ کپتان اس سیریز کو ’’پریکٹس گیم‘‘ کی طرح کھیل رہے ہیں تو بنچ پر موجود کھلاڑی ملنے والے اس موقع سے فائدہ اُٹھانے میں ناکام رہے ہیں اور ذہنی طور پر تیار ہیں کہ وہ ورلڈ کپ کیلئے انگلینڈ جانے والی ٹیم کا حصہ نہیں ہونگے۔
دوسری ٹیموں میں بنچ پر موجود کھلاڑی ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سلیکٹرز کی مشکلات میں اضافہ کردیتے ہیں مگر پاکستانی ٹیم کی سیکنڈ اسٹرنگ نے سلیکشن کمیٹی کا کام نہایت آسان کردیا ہے ۔ آسٹریلیا کیخلاف سیریز جیتنا کبھی بھی آسان نہیں رہا ہے اور اگر پاکستانی ٹیم کے چھ اہم کھلاڑی آرام نہ کررہے ہوتے تو ممکن تھا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ایک کڑا مقابلہ دیکھنے کو ملتامگر پہلے تینوں میچز میں جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ کوشش کیے بغیر شکست کو قبول کرنے کی بزدلی ہے!!

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 203 316 other subscribers