کرکٹ

صرف صبر!!

آٹھویں مرتبہ پاکستان کو کسی تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہونا پڑا ہے جس میں چھ مرتبہ آسٹریلیا اور دوسری مرتبہ جنوبی افریقہ نے گرین شرٹس کو زیر کیا ۔
جنوبی افریقہ میں چھ ٹیسٹ اننگز کے دوران پاکستانی بیٹسمینوں نے صرف 1300رنز اسکور کیے اور صرف دو مرتبہ پاکستانی ٹیم نے دو سے زائد کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا مگر تین سو کا ہندسہ ایک خواب ہی رہا جبکہ چھ چھ مرتبہ بیٹنگ کرنے والے اسپیشلسٹ بیٹسمین ایک مرتبہ بھی تین ہندسوں کی اننگز نہ کھیل سکے۔
2013ء میں بھی پاکستانی بیٹسمینوں نے جنوبی افریقہ میں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا بلکہ چھ اننگز میں پاکستانی بیٹسمینوں نے 1215رنز بنائے مگر اس مجموعے میں ایک تین پلس بھی شامل تھا جبکہ یونس خان اور اسد شفیق نے ایک ایک سنچری بھی اسکور کی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کی موجودہ ٹیم کو یہ کہہ کر نہیں لتاڑا جاسکتا کہ اس مرتبہ گرین شرٹس نے بیٹنگ میں ’’بے حد‘‘ مایوس کیا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسی صورتحال رہی ہے مگر حالیہ سیریز میں پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے وکٹ پر وقت گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا۔پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹسمین 47اور56اوورز تک ہی پروٹیز بالرز کا مقابلہ کرسکے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں 51.1اور 70.4اوورز میں پاکستانی ٹیم پویلین میں محدود ہوگئی اور پھر آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 50اوورز بھی نہ کھیلے گئے اور دوسری اننگز میں ٹیل اینڈرز نے 66اوورز تک بیٹنگ کو ممکن بنایا۔اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستانی ٹیم نے اس ٹیسٹ سیریز میں اوسطاً فی اننگز 56 اوورز کھیلے ہیں اور اگر کوئی ٹیم ایک اننگز میں محض 56اوورز تک بیٹنگ کرسکے تو پھر ایسی ٹیم کسی بھی ملک میں ،کسی بھی وکٹ پر، کسی بھی ٹیم کیخلاف شکستوں سے بچ نہیں سکتی!
جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد ٹی وی چینلز پر پاکستانی ٹیم کو لتاڑا جارہا ہے ، کپتان کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ،سلیکشن کمیٹی کی طرف تنقید کی توپوں کا رخ کیا جارہا ہے ، ٹیم مینجمنٹ کو صلواتیں سنائی جارہی ہیں مگر اس نقطے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے وکٹ پر وقت گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ درست ہے کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی وکٹوں پر موجود باؤنس پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے ہمیشہ سے مشکلات کا سبب رہا ہے مگر نیوزی لینڈ کیخلاف یو اے ای میں کیا ہوگیا تھا جب ’’سازگار‘‘ کنڈیشنز میں بھی پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کیخلاف دو ٹیسٹ میں شکست سے دوچار ہوگئی اور آخری اننگز میں صرف 56اوورز میں پاکستانی بیٹنگ لائن زمین بوس ہوگئی۔
اصل مسئلہ بیٹسمینوں میں صبر کا فقدان ہے کیونکہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی اب لمبی اننگز دیکھنے کو نہیں ملتیں،ڈبل سنچریوں کا فقدان ہوتا جارہا ہے ، اب میچز ڈرا نہیں ہوتے کیونکہ بیٹسمینوں میں ٹمپرامنٹ کی کمی ہے جو طویل اننگز نہیں کھیل سکتے۔یہی صورتحال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی درپیش ہے کیونکہ ٹیسٹ ٹیم میں کھیلنے والے اکثر بیٹسمین ٹی20کرکٹ کی پیداوار ہیں اور جنہیں ٹیسٹ اسپیشلسٹ کہاجاتا ہے وہ بھی سیزن میں گنتی کے چند فرسٹ کلاس میچز کھیلتے ہیں ۔ایسی صورتحال میں چاہے پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ یا آسٹریلیا میں کھیلے یا پھر یو اے ای اور زمبابوے میں بیٹنگ کرے … پچاس سے ساٹھ اوورز فی اننگز کھیل کر پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم دنیا کے کسی بھی خطے میں شکست سے نہیں بچ سکتی!!