کرکٹ

جلدی کاہے کی ہے؟

ٹیم کے سب سے زیادہ تجربہ کار بیٹسمین اظہر علی اور اسد شفیق صفر پر پویلین روانہ ہوئے اور امام الحق کے 43رنز کیساتھ 91/5کے اسکور پر پاکستانی بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار تھی کہ بابر اعظم اور سرفراز احمد نے ٹیم کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی مگرایک مرتبہ گرین شرٹس کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہوئے 185 پرڈھیر ہوگئی۔
بابر اعظم اور کپتان سرفراز احمد نے بالترتیب 49اور50رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے چھٹی وکٹ پر 78رنز کی شراکت کیساتھ پاکستان کو میچ پر حاوی کرنے کی کوشش کی۔ دونوں بیٹسمینوں نے مجموعی طور پر 18چوکے لگائے اور خاص طور پر بابر اعظم نے جس طرح تجربہ کار فاسٹ بالر ڈیل اسٹین کو متعدد مرتبہ باؤنڈری کا راستہ دکھایا وہ قابل تحسین تھا۔ دونوں بیٹسمینوں نے صرف 10اوورز میں 78 رنز جوڑے تو یوں محسوس ہورہا تھا کہ بابر اور سرفراز کسی ٹی20میچ میں عام سی بالنگ لائن کا قتل عام کررہے ہیں مگر پھر دونوں صرف پانچ گیندوں کے فرق سے پویلین روانہ ہوئے اور پاکستان کی مہم جوئی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
بابر اعظم نے 55گیندوں پر 49اور سرفراز احمد نے صرف40بالز پر 50رنز بنائے۔ دونوں بیٹسمینوں نے لگ بھگ 65 فیصدگیندوں پر جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی۔ وقتی طور پر بابر اور سرفراز کی بیٹنگ بہت پر لطف محسوس ہوئی اور دیکھنے والوں نے بھرپور انداز میں سراہا۔ یقینی طور پر جنوبی افریقی بالرز بھی اُن دس اوورز میں بے بس دکھائی دیے مگر دونوں پاکستانی بیٹسمین یہ بھول گئے کہ وہ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ دس اوورز میں مار دھاڑ کرنے کے بعد سرفراز نے ربادا کی آف اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند کو جارحانہ انداز سے کٹ کرنے کی کوشش میں دوسری سلپ میں ہاشم آملہ کو کیچ تھما دیا۔ پانچ گیندوں کے بعد بابر اعظم نے اولیور کی شارٹ گیند کو ہُک کرتے ہوئے فائن لیگ پر کیچ پکڑا دیا۔
پہلی پانچ وکٹیں گرنے کے بعد بابر اعظم اور سرفراز احمد نے ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق بیٹنگ نہیں کی بلکہ جنوبی افریقی بالرز پر حملہ آور ہونے کی کوشش میں ٹی20انداز اپنا لیا۔دو ٹیسٹ میچز ہارنے اور پھر پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں گنوانے کے بعد بھی کپتان سرفراز احمد اور بابر اعظم کو سمجھ نہیں آئی کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کس طرح بیٹنگ کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا پر بابر اعظم بمقابلہ ڈیل اسٹین میں بابر اعظم کی ’’فتح‘‘ کو بھرپور انداز میں سراہا جارہا ہے مگر 55 گیندوں کا یہ ’’فائر ورکس‘‘ پاکستانی ٹیم کے کسی کام نہیں آیا ۔اگر بابر اعظم اور سرفراز احمد پچاس کے لگ بھگ رنز اسکور کرچکے تھے تو پھر ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان نصف سنچریوں کو تین ہندسوں کی اننگز میں منتقل کرتے۔
بابر اور سرفراز نے 95گیندوں پر 99رنز بنا کر پاکستانی ٹیم کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ پاکستانی ٹیم کو مشکلات میں دھکیل دیا ۔اگر دونوں بیٹسمین انفرادی طور پر 95گیندیں کھیل لیتے تو پاکستانی ٹیم کم ازکم ڈھائی سو کے قریب رنز بنانے میں ضرور کامیاب ہوجاتی۔ اظہر علی اور اسد شفیق کے ’’صفروں‘‘ پر کیا بات کی جائے کہ سینئر ترین بیٹسمین ہر مرتبہ دھوکہ دے جاتے ہیں اور ان دونوں کی ناکامی پر متعدد مرتبہ مصباح،یونس کے دور کی یاد آنا شروع ہوجاتی ہے۔
پاکستانی بیٹنگ لائن نے اس پوری سیریز میں اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا اور ہر مرتبہ بالرز کی محنت کو غارت کیا ہے۔ٹاپ آرڈر بیٹسمین نئی گیند کے سامنے جدوجہد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بابر اعظم، سرفراز احمد اور دیگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ٹی20 نہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آخر کس بات کی جلدی تھی کہ بابر اعظم اور سرفراز احمد نے غیر معمولی طور پر جارحانہ انداز اپنالیا اور یہ بھول گئے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کس انداز سے بیٹنگ کی جاتی ہے جبکہ آنے والے ’’آل راؤنڈرز‘‘ بھی غیر ذمہ داری کی پوری مثال بنے ہوئے دکھائی دیے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک بیٹسمین کریز پر وقت گزارنا نہیں سیکھیں گے اور اس کی بہترین مشق فرسٹ کلاس کرکٹ میں ہی ممکن ہے کیونکہ سارا سال ٹی20کرکٹ کھیلنے والے اور فرسٹ کلاس کرکٹ سے دور رہنے والے بیٹسمین پانچ دن کی کرکٹ میں اسی طرح جلدبازی کا شکار دیتے ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 195 430 other subscribers