Uncategorized

پاکستان میں ویمنز کرکٹ کا سفر رُک گیا ہے؟

پاکستان میں خواتین کے کھیلوں کا معیار نہایت پست ہے جس کی وجہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ایسے نامسائد حالات ہیں جو خواتین کو کھیلوں کے میدان میں آگے نہیں بڑھنے دیتے۔یورپی ممالک سے پاکستانی خواتین کھیل کے میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتی لیکن خطے کے دیگر ممالک بھارت اور سری لنکا میں بھی خواتین کی کھیلوں کا معیار کافی بلند ہے۔ پاکستان کے قومی کھیل ہاکی میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور یہی حال دیگر کھیلوں سمیت ایتھلیٹکس کا بھی ہے۔ کرکٹ ملک کا مقبول ترین کھیل ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواتین کرکٹ کا حال دیگر کھیلوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔
پاکستان میں ویمنز کرکٹ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور 1997ء میں ایک پرائیویٹ تنظیم کے تحت ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے بعد پاکستان میں ویمنز کرکٹ نہ ہونے کے برابر تھی ۔چند برس قبل ویمنز کرکٹ کی ذمہ داریاںپی سی بی کو ملی ہیں جس کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ویمنز کرکٹ کا حصہ مقرر کیا گیا اور خواتین کرکٹ کے معاملات میں بہتری آئی مگر اس کے باوجود پاکستان ویمنز کرکٹ کا موازنہ آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈاور بھارت جیسے ممالک نہیں کیا جاسکتا جہاں کئی عشرے قبل ویمنز کرکٹ کاآغاز ہوگیا تھا اور ان ممالک میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کرکٹ کو بھی بھرپور سہولتیں حاصل ہیں ۔لہذا ان ممالک کے ساتھ پاکستان کی ویمنز کرکٹ کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا مگر ان ممالک کیخلاف اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم اپنے کھیل کے معیار کو بلند کرسکتی ہے ورنہ بنگلہ دیش ،آئرلینڈ اور سری لنکا جیسی ٹیموں کیخلاف اچھی کارکردگی پاکستان کی ویمنز ٹیم کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتی۔
پاکستان کی ویمنز ٹیم اس وقت آئی سی سی کی ون ڈے رینکنگ میں ساتویں نمبر ہے اور یہی گرین شرٹس کی بہترین پوزیشن ہے کیونکہ پاکستان کی ویمن ٹیم کبھی بھی ٹاپ چھ میں رسائی حاصل نہیں کرپائی ۔ اس رینکنگ کا اثر ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی دیکھنے کو ملا جس کا آغاز پاکستانی ٹیم نے 1997ء کے مقابلوں میں گیارہ ٹیموں میں آخری پوزیشن حاصل کی جبکہ 2013ء اور 2017ء کے مقابلوں میں پاکستان کو مجموعی طور پر تمام گیارہ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2009ء کا ورلڈ کپ پاکستان کیلئے بہترین ثابت ہوا جب دو فتوحات کیساتھ پاکستانی ٹیم نے سپر سکس مرحلے تک رسائی حاصل کی۔ اگر ورلڈ ٹی20کی بات کریں تو پانچ ایونٹس میں گرین شرٹس نے 17میں سے چار مقابلوں میں کامیابی حاصل کی اور بہترین کارکردگی 2016ء کے ایونٹ میں دیکھنے کو ملی جب پاکستان نے چار میں سے دو میچز جیت کر دس ٹیموں میں چھٹی پوزیشن حاصل کی۔آسٹریلیا،انگلینڈ اور بھارت کو ابھی تک پاکستانی ٹیم کسی ون ڈے انٹرنیشنلز میں شکست نہیں دے سکی البتہ ایشن گیمز میں دونوں مرتبہ پاکستانی ٹیم نے گولڈ میڈل ضرور اپنے نام کیا ہے۔حالیہ ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی ٹیم آسٹریلیا اور بھارت سے شکستوں کے بعد سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوچکی ہے اور آئرلینڈ کو شکست دینے کے بعد اگر آخری میچ میں گرین شرٹس نیوزی لینڈ کیخلاف کامیابی حاصل کرتی ہے تو ایونٹ کا اختتام قدرے بہتر انداز میں ہوسکتا ہے۔
سابق کپتان ثناء میر 112ون ڈے انٹرنیشنلز کھیل چکی ہیں جبکہ بسمہ معروف، جویریہ خان اور اسماویہ اقبال میچز کی سنچری کے قریب ہیں مگردو سنچریاں اسکور کرنے والی جویریہ کے علاوہ کسی بھی کھلاڑی کی بیٹنگ اوسط 30سے زائد نہیں ہے ۔ٹی20 انٹرنیشنلز میں بھی کوئی کھلاڑی سو کے اسٹرائیک ریٹ کے قریب بھی نہیں ہے ۔ ثناء میر، بسمہ معروف،جویریہ خان اور ناہیدہ خان ایسی کھلاڑی ہیں جو ایک عشرے سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں جبکہ اسماویہ اقبال، ندا ڈار، سدرہ نواز ،ڈیانا بیگ، انعم امین بھی کافی عرصے سے گرین شرٹس کا حصہ ہے ۔ان میں سے اکثر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی غیر معمولی نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کھلاڑیوں کے متبادل سامنے نہیں آرہے اور نئی لڑکیوں کو پاکستانی ٹیم کی نمائندگی سے محروم رکھا جارہا ہے۔
پی سی بی نے ویمنز ٹیم کو ہر ممکن سہولت فراہم کی ہوئی مگر اس کے باوجود بڑی ٹیموں کیخلاف یکطرفہ انداز سے ملنے والی شکستوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی اکثریت صلاحیت کے اعتبار سے کم تر ہے ۔ویمنز کرکٹ میں بہتری لانے کیلئے جہاں ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلے کا رجحان پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں اچھی کھلاڑیوں کی تلاش کیلئے اوپن ٹرائل کا سلسلہ بھی شروع کرنا چاہیے جہاں سے ممکنہ طور پر پاکستانی ویمنز ٹیم کو کچھ ایسی کھلاڑی مل جائیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کا سبب بن جائیں کیونکہ موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ اوسط درجے سے کم تر کارکردگی کے حصول سے پاکستان ویمنز کرکٹ ایک جگہ پر رک جائے گی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے !

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 182,184 other subscribers