Cricket

اسٹاک کلیئرنس!!

کرکٹ کا کھیل انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکا ہے اور ٹی20لیگز کی آمد کے بعد سے کھلاڑیوں کی اہمیت کا اندازہ اُن کی “مارکیٹ ویلیو” سے لگایا جاتا ہے بلکہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی انہی کھلاڑیوں کو اہمیت حاصل ہے جو گزشتہ برسوں میں اپنے عمدہ کھیل کی بدولت اپنی مارکیٹ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔پاکستان کرکٹ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کچھ کھلاڑی ملنے والے محدود مواقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قومی ٹیم کیلئے لازم و ملزوم بن گئے جبکہ کچھ ہر موقع پر ناکام ہونے کے بعد قومی ٹیم سے میلوں دور چلے گئے ہیں۔
چند دن بعد پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کیلئے ڈرافٹنگ ہونے جارہی ہے اور یہاں فرنچائز ٹیموں کیلئے ضروری ہے کہ وہ محض بڑے ناموں یا تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے کی بجائے کھلاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو پر زیادہ نگاہ رکھیں اور اُن کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے جو صرف ڈومیسٹک کرکٹ کے چمپئن نہیں بلکہ پی ایس ایل جیسی ہائی پروفائل لیگ کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔شاداب خان سے بہتر مثال اور کون سی ہوسکتی ہے کہ جونیئر ورلڈ کپ کے بعد پی ایس ایل میں دباؤ برداشت کرتے ہوئے عمدہ پرفارمنس دے کر شاداب خان ایک ہی جست میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا جبکہ اس لیگ کے پہلے ایڈیشن میں ایمرجنگ کیٹیگری میں منتخب ہونے والے کئی کھلاڑی آج بھی اسی جگہ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں کے دوران جن کھلاڑیوں نے پاکستان کیلئے ڈیبیو کیا اور دوسرے چانس پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اس کیلئے سرفراز احمد سے بہتر مثال اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ سرفراز کا انٹرنیشنل کرکٹ میں آغاز اچھا نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ بہت جلد سرفراز کو اپنی جگہ سے محروم ہونا پڑا لیکن 2013ء میں جب ٹیسٹ ٹیم کے ریگولر وکٹ کیپر عدنان اکمل کو ایک انجری کے سبب ٹیم سے باہر ہونا پڑا تو سیفی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بلکہ اپنی دھماکہ خیز پرفارمنس سے نہ صرف تینوں فارمیٹس میں اپنی جگہ پکی کی بلکہ وقت گزرنے کیساتھ وہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کا کپتان بھی بن گیا۔
2010ء کے دورہ انگلینڈ میں اظہر علی اور عمر امین نے ایک ساتھ ٹیسٹ ڈیبیو کیا ۔آج اظہر علی ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ ہزار سے زائد رنز کے ساتھ دنیا کے چند بہترین ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں میں شمار ہوتا ہے اور ون ڈے فارمیٹ میں کپتانی کرنے کے علاوہ بہتر پرفارمنس کیساتھ ریٹائرمنٹ لے چکا ہے جبکہ عمر امین ابھی تک اے ٹیم سے آگے نہیں جاسکا جس نے پچھلے دس برسوں میں متعدد مرتبہ اے ٹیم کیساتھ دورہ کرنے کے باوجود محض ڈومیسٹک کرکٹ کا ہی چمپئن بن سکا ہے۔ آٹھ ٹیسٹ اننگز میں99رنز اور مجموعی طور پر پاکستان کیلئے 33اننگز میں محض 16کی اوسط سے 512رنز ہی بنا سکا ہے۔ اگر اس کے باوجود کوئی یہ سمجھتا ہے کہ 29سالہ کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا “مستقبل” ہے تو پھر ایسے لوگوں کی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
حماد اعظم کو 2010ء کے جونیئر ورلڈ کپ کے بعد مستقبل کے اسٹار کے طور پر پیش کیا گیا مگر آل راؤنڈر کے طور پر کھیلنے والے کھلاڑی نے 16مواقع پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ہر مرتبہ مایوس کیا ہے۔اس کے مقابلے میں عماد وسیم کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو ممکن ہے اپنے ابتدائی دنوں میں بہت زیادہ باصلاحیت دکھائی نہیں دیتا تھا مگر وائٹ بال کرکٹ میں 63مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والا عماد دو مرتبہ میچ میں پانچ وکٹوں کا کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے 64وکٹیں اپنے نام کرچکا ہے جبکہ ون ڈے انٹرنیشنلز میں چار نصف سنچریاں عماد کی بیٹنگ کی صلاحیت ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ پی ایس ایل میں ایک ٹیم کی کپتانی کرنا بھی یہ واضح کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کے اسپنر میں دباؤ برداشت کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے جو اس سطح پر نہ صرف خود اچھی پرفارمنس دیتا ہے بلکہ ٹیم کی قیادت کرنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔
فواد عالم ایسا نام ہے جس کی مارکیٹ ویلیو خراب ہوچکی ہے ورنہ ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری اسکور کرنے ، فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز اور سنچریوں کے انبار لگانے کے بعد کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ فواد عالم جیسے کھلاڑی کو قومی ٹیم میں جگہ نہ دی جائے مگر گزشتہ برسوں میں ہر سلیکشن کمیٹی نے فواد عالم کو نظر انداز کیا ہے ۔اس کی وجہ پسند و ناپسند ہرگز نہیں ہے بلکہ فواد عالم کی مارکیٹ ویلیو ہے جو بدقسمتی سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ قومی ٹیم کیلئے فواد عالم کونظر انداز کیے جانے پرسلیکشن کمیٹیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ پی ایس ایل کی چھ ٹیموں میں سے ایک بھی ٹیم فواد پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں؟
دباؤ برداشت نہ کرنے کے حوالے سے اوپنر نعمان انور کی مثال بھی دی جاسکتی ہے جس نے قومی ٹی20کپ میں چند اچھی اننگز کی بنیاد پر پاکستان کی طرف سے ٹی20انٹرنیشنلز کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا مگر پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں ناکامی نے نعمان انور کو اس لیگ سے دور کردیا ہے جو بڑی کرکٹ میں دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ایک اور مثال جاہد علی کی ہے جسے 2016ء میں اے ٹیم کیساتھ انگلینڈ جانے کا موقع ملا مگر اوپننگ بیٹسمین جاہد اس موقع سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا اور اس ٹور پر اس کیساتھ کھیلنے والے فخر زمان، بابر اعظم جیسے کھلاڑی آج انٹرنیشنل کرکٹ کے ستارے بن گئے ہیں اور جاہد علی ابھی تک ڈومیسٹک کرکٹ میں پھنسا ہوا ہے۔
یہ ساری مثالیں یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی ٹیموں کو اب یہ سوچنا چاہیے کہ گزشتہ دس برسوں میں کن کھلاڑیوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں دباؤ برداشت کیا، پرفارمنس دی اور اپنی مارکیٹ ویلیو بنائی اور وہ کون سے کھلاڑی ہیں جو محض ڈومیسٹک کرکٹ کے ہیرو ثابت ہوئے اور انٹرنیشنل کرکٹ میں ملنے والے ہر موقع پر انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اب اسٹاک کلیئرنس کا وقت آگیا ہے کہ اپنی عمر کے تیسرے عشرے میں موجود اُن کھلاڑیوں کو “شیلف” سے ہٹا دیا جائے تو پچھلے دس برسوں میں پی سی بی اور شائقین کرکٹ کو متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان برسوں میں عمدہ کارکردگی دکھانے والوں کیساتھ اُن نوجوانوں کو شیلف پر سجایا جائے جو اگلے دس برس تک پاکستان کرکٹ کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔سعود شکیل، سعد علی، محمد سعد، زین عباس ،ذیشان ملک، خوش دل شاہ، نہال منصور، علی عمران، عمر صدیق، ذیشان اشرف،محمد اخلاق ایسے نام ہیں جو بیٹنگ کے شعبے میںپاکستان کرکٹ کا مستقبل ہیں۔
چلے ہوئے کارتوسوں پر مزید وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کی جائے جو اگلے دس برسوں انٹرنیشنل کرکٹ کے “سپر سٹور” میں موجود “پاکستانی شلیف” کو چار چاند لگا سکیں!

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 182,184 other subscribers