Cricket

سرفراز کی دلیری…مثبت نتائج کی ضمانت!

لاہور میں قائد اعظم کپ کا دوسرا سیمی فائنل جاری تھا۔امام الحق انجری سے کم بیک کرتے ہوئے اپنی ٹیم کیلئے85رنز کی اننگز کھیل چکا تھا۔شام چار بجے نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے ٹیم کا اعلان کیا گیا جس میں محمد حفیظ اور عماد وسیم کی واپسی ہوچکی تھی جبکہ شان مسعود اور محمد نواز کو ڈراپ کردیا گیا ۔یقینا ان فیصلوں میں کپتان سرفراز احمد کا کردار نہایت اہم رہا ہے جس نے اب ٹیم سلیکشن کے عمل میں کچھ دلیری دکھانا شروع کردی ہے۔
گزشتہ ڈومیسٹک سیزن میں شان مسعود نے ون ڈے فارمیٹ میں رنز کے انبار لگادیے تھے اور لسٹ اے کرکٹ میں شان مسعود کی بیٹنگ اوسط ویرات کوہلی اور ابراہام ڈی ویلیئرز جیسے بیٹسمینوں سے بھی زیادہ ہے مگر بائیں ہاتھ کے اوپنر کو اس کی پرفارمنس کا صلہ کافی تاخیر سے اُس وقت دیا گیا جب شان مسعود کو ایشیا کپ کے اسکواڈ میں شامل کیاگیا مگر بغیر کوئی میچ کھیلے شان مسعود کو گھر واپس آنا پڑا اور اب شان مسعود کو ون ڈے ٹیم سے ڈراپ بھی کردیا گیا ہے۔ شان کو ڈراپ کرنے کی وجہ سلیکٹرز یہی بتائیں گے کہ حفیظ کی واپسی کے بعد شان کو ڈراپ کرنا پڑا ۔ایشیا کپ کیلئے محمد حفیظ کو زمبابوئے کی پرفارمنس پر ڈراپ کیا گیا تھا اور اب شان مسعود کو کوئی میچ کھلائے بغیر بیرونی دروازہ دکھا دیا گیا ہے ۔اب سلیکشن کمیٹی کو یہ بتانا چاہیے کہ اُن کا کون سا فیصلہ غلط ہے…ایشیا کپ کیلئے محمد حفیظ کی جگہ شان مسعود کو منتخب کرنے کا یا پھر موقع دیے بغیر شان کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ؟
شان مسعود کی موجودگی میں یہ فیصلہ آسان تھا کہ فخر اور امام سے اننگز کا آغاز کرواتے ہوئے شان کو باہر بٹھایا جائے لیکن اب حفیظ کو فائنل الیون میں شامل کرنا ہوگا جس نے ٹیسٹ کرکٹ میں کم بیک کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کیخلاف ٹی 20سیریز میں بھی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے۔حفیظ کی واپسی سے ممکن ہے کہ آصف علی کو فائنل الیون میں جگہ نہ مل پائے کیونکہ بابر اعظم ، شعیب ملک اور محمد حفیظ کی موجودگی سے مڈل آرڈر کافی مضبوط ہوگا جبکہ حارث سہیل کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس صورت میں ٹی 20 اسپیشلسٹ آصف علی کو پچاس اوورز کے فارمیٹ کیلئے منتخب کرنا کافی عجیب فیصلہ ہے کیونکہ ایشیا کپ میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ صرف 20 اوورز کی کرکٹ کیلئے ہی آصف علی پاکستان کے کام آسکتا ہے کیونکہ ون ڈے میچ میں اگر آصف علی کو بیس سے پچیسویں اوور کے دوران وکٹ پر جانا پڑے تو دائیں ہاتھ کا بیٹسمین اننگز کی تعمیر کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
عماد وسیم کی واپسی سے اسپن بالنگ کا شعبہ مضبوط ہوا ہے اور ٹی20فارمیٹ میں بھی عماد وسیم نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ایک مرتبہ پھر منوایا ہے۔ ایشیا کپ کے آخری میچ میں جنید خان کی چار وکٹیں، شاہین آفریدی کی مسلسل بہتری کی جانب سفر اور عثمان شنواری کی متاثر کن بالنگ نے محمد عامر کی واپسی راستہ بند کردیا ہے جبکہ حسن علی کی جگہ پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔اگر نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں بھی حسن علی اپنی بالنگ کی دھاک نہیں بٹھاتا تو پھر شاید سلیکشن کمیٹی کو ایک اور مشکل فیصلہ کرنا پڑے۔فی الوقت پاکستان کی پیس بیٹری نہایت موثرہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ فائنل الیون کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔
اگر ایشیا کپ اور نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کیلئے منتخب کردہ ٹیموں کا جائزہ لیا جائے تو فرق صرف محمد حفیظ کا ہے۔ایشیا کپ کیلئے صرف کچھ لوگوں کی اَنا کو تسکین پہنچانے کیلئے محمد حفیظ کو اسکواڈ سے ڈراپ کیا گیا جس کا نتیجہ ایشیا کپ میں بدترین شکست کی صورت میں نکلا اور جب پانی سر سے گزر گیا تو محمد حفیظ کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا ۔اگر محمد حفیظ کو ایشیا کپ سے ڈراپ نہ کیا جاتا تو ممکن ہے کہ نتائج کچھ مختلف ہوتے مگر مکی آرتھر کے سامنے سلیکشن کمیٹی کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اب سرفراز احمد نے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے ورنہ کچھ عرصہ پہلے تک “سیفی” کو صرف “یس سر کہنے کی ہدایت پر عمل کرنا پڑ رہا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب یہ جان لینا چاہیے کہ ورلڈ کپ کے بعد مکی آرتھر اپنا بوریا بستر اُٹھا کر نئی نوکری کی تلاش میں نکل جائے گا مگر سرفراز احمد نے اسی ٹیم میں کھیلنا ہے اور ہر اچھے برے نتیجے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہے اس لیے سلیکشن کمیٹی کو چاہیے کہ اب کپتان کو عزت دینا شروع کردے!

Add Comment

Click here to post a comment

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 175,097 other subscribers