Cricket

کرکٹ کمیٹی کتنی موثر ہوگی؟

چلیں جسٹس قیوم کی رپورٹ پر بالکل بھی بات نہیں کرتے لیکن کرکٹ کمیٹی میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے بنائی گئی کرکٹ کمیٹی کی سربراہی سابق ٹیسٹ بیٹسمین محسن حسن خان کو سونپی ہے جبکہ اراکین میں وسیم اکرم، مصباح الحق اور عروج ممتاز شامل ہیں۔لارڈز میں ڈبل سنچری اسکور کرنے اور پھر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے کے بعد سے محسن خان نے صرف پی سی بی کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے یا پھر کوچ کی حیثیت سے انگلینڈ کیخلاف وائٹ واش کا تذکرہ کرتے ہوئے وقت گزارا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ڈومیسٹک کرکٹ سے قطعی طور پر دور رہنے والے محسن خان کو اُس کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا ہے جس نے ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتری کی جانب گامزن کرنا ہے ۔ اس فیصلے سے پتہ چل رہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانے کیلئے کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
یہ بات کیوں دماغ میں بٹھا لی گئی ہے کہ جب بھی کرکٹ کی بہتری کیلئے کوئی مشورہ درپیش ہو تو صرف وسیم اکرم یا رمیز راجہ سے ہی کیوں مشورہ کیا جاتا ہے ؟کیا پاکستان میں اور کوئی سابق کرکٹر ایسا نہیں ہے جو پاکستان میں کرکٹ کی بہتری کیلئے مفید مشورے دے سکے ؟ چاہے کوچ کی تقرری کا معاملہ ہویا ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے فیصلے کرنا ہوں یا پھر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے اقدامات کرنا ہوں،ہمیشہ وسیم اکرم اور رمیز راجہ کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ وسیم اکرم نے اپنے کیرئیر کے آخری دس برسوں کے دوران پاکستان میں بہت کم ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی ہے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ سے کسی بھی حیثیت سے وابستہ نہیں رہے۔
اس کمیٹی میں مصباح الحق ہی ایسے رکن ہیں جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے تمام اتار چڑھاؤ دیکھے ہوئے ہیں اور وہ اس کی خوبیوں اور خامیوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ حال ہی میں مصباح الحق کی ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی جو انہوں نے ایل سی سی اے گراؤنڈ کے ڈریسنگ روم میں سہولیات کی عدم دستیابی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کی تھی لیکن جب تک مصباح الحق قومی ٹیم کا حصہ رہے اور سنٹرل کانٹریکٹ سے مستفید ہوتے رہے انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی لیکن اب وہ کھل کر ڈومیسٹک کرکٹ کی خامیاں سامنے لارہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ مصباح کو کرکٹ کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔چوتھے رکن کے طور پر عروج ممتاز کو لیا گیا ہے جو ماضی میں پاکستان کی ویمن ٹیم کی کپتانی کرچکی ہیں۔
مصباح الحق کی موجودگی بہت زیادہ اہم اور مفید ثابت ہوسکتی ہے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مصباح الحق خود ایک ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ پی سی بی کے پیٹرن انچیف ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کی ہمیشہ سے حوصلہ شکنی کرتے ہوئے آئے ہیں۔ اب یہ بھی دیکھنا بہت اہم ہوگا کہ کیا مصباح الحق ریجنل کرکٹ کی منصوبہ بندی کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے یاپھر وہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کو بچانے کیلئے اپنا پورا زور لگائیں گے۔
کرکٹ کمیٹی کا قیام ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کی جانب اُٹھایا گیا پہلا مثبت قدم ضرور ہے مگر اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کرکٹ کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے کس قدر مفید سفارشات پی سی بی کے سامنے رکھتی ہے اور پی سی بی اس کمیٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کرتا ہے ۔ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کیلئے اب اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں اور اگلے سیزن سے قبل انقلابی اقدامات کرلیے گئے تو پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ بہتر سمیت میں گامزن ہوجائے گی ورنہ اس بات کا ڈر ہے کہ یہ کمیٹی بھی دوسری کمیٹیوں کی طرح ماضی کا حصہ بن جائے گی۔

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 175,097 other subscribers