کرکٹ

اظہر ہمیشہ قابل فخر

وہ ہمیشہ اپنے سینے پر آویزاں 146146ستارے145145 کی سربلندی کیلئے کھیلاہے۔ وہ ہمیشہ ذاتی مفاد پر پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھتا ہوا آیا ہے ۔وہ ہمیشہ سے ایک ٹیم مین رہا ہے۔ وہ چند ایسے کھلاڑیوں میں شامل ہے جس پر پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ ناز رہے گا۔وہ اظہر علی ہے جو ہمیشہ پاکستان کیلئے قابل فخر رہے گا!
دو دن قبل جب اظہر علی ہمارے ساتھ کمنٹری باکس میں موجود تھا تو اس کے چہرے پر بہت زیادہ اطمینان دکھائی دے رہا تھا ،ایسا اطمینان جو کسی بڑے مگر درست فیصلے کے بعد کسی کے چہرے پر دیکھا جاسکتا اور آج اظہر علی نے اس بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتادیا کہ وہ اب پاکستان کیلئے صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلے گا۔ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے اظہر علی نے یہی بتایا کہ ٹیسٹ کرکٹ پر فوکس کرنے اور اس فارمیٹ میں طویل اور کامیاب کیرئیر کے حصول کیلئے وہ ون ڈے انٹرنیشنلز کو خیر باد کہہ رہا ہے جبکہ ہمارے دوست نبیل ہاشمی کے سوال کے جواب میں اظہر علی کا کہنا تھا کہ پچاس اوورز کے فارمیٹ میں وہ جتنا پاکستان کیلئے کرسکتا تھا اتنا اُس کو موقع نہیں مل سکا۔
پاکستان کیلئے 53ون ڈے انٹرنیشنلز کھیلنے والے اظہر علی کا ون ڈے کیرئیر کافی حد تک متاثر کن رہا ہے جس نے لگ بھگ 37کی اوسط سے 1845رنز بنائے جس میں تین سنچریاں اور 12نصف سنچریاں شامل ہیں۔ 2015ء کے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم میں جگہ حاصل نہ کرنے والے اظہر علی کی اس فارمیٹ میں واپسی کپتان کی حیثیت سے ہوئی ۔مصباح الحق، یونس خان اور شاہد آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے بعد نوجوان ٹیم کو پہلی آزمائش میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے بعد اظہر علی کی قیادت میں یہ ٹیم تعمیر نو کے عمل سے گزرتے ہوئے چمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ 2019میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ رینکنگ میں آٹھویں نمبر سے بھی نیچے گر جانے والی ٹیم کو چمپئنز ٹرافی کیلئے کوالیفائی کروانا بھی اظہر علی کا کارنامہ تھا جس نے نہ صرف اس سیریز میں 228رنز بنائے بلکہ کپتان کی حیثیت سے پاکستان کو سری لنکا میں ون ڈے سیریز میں کامیابی دلوائی جس نے پاکستان کو چمپئنز ٹرافی میں انٹری دلوادی۔
اگر کپتان کی حیثیت سے اظہر علی کی کارکردگی کی بات کریں تو 31میچز میں اظہر نے اپنے کیرئیر کی تینوں سنچریاں اسکور کرتے ہوئے 1153رنز بنائے ۔ اس دوران پاکستان نے صرف 12کامیابیاں حاصل کیں جس کی وجہ سے بہت زیادہ کھلاڑیوں کو آزمانا تھا مگر اس دوران بابر اعظم جیسے بیٹسمین کا ڈیبیو ہوا جبکہ حسن علی نے بھی اظہر علی کی کپتانی کے دنوں میں اپنی اُڑان بھری ۔نتائج ممکن ہے کہ اظہر علی کو زیادہ کامیاب کپتان ثابت نہ کریں مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اظہر علی کے دور میں ہونے والے تجربات نے پاکستان کی ون ڈے ٹیم کو درست راہ پر گامزن کیا جس کا عروج چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں دیکھنے کو ملا جب فخر زمان کی سنچری نے پاکستان کو فاتح بنوادیا اور اس اہم ترین کامیابی میں 59رنز کی اہم اننگز کھیلتے ہوئے اظہر علی نے اپنا حصہ ڈالا۔
اظہر علی سے بڑھ کر ٹیم مین اور کون ہوگا جس نے مشکل وقت میں ون ڈے ٹیم کی کپتانی سنبھالی، شکستوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھایا، سینئر کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نئی ٹیم تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور جب وہ ٹیم بہتری کی جانب گامزن ہورہی تھی تو پی سی بی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ون ڈے ٹیم کی کپتانی مسکراتے ہوئے سرفراز احمد کے حوالے کردی ۔چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں 59رنز کی نہایت اہم اننگز کھیلنے والے اظہر علی کو نیوزی لینڈ میں تین ون ڈے میچز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں ناکام ہونے والے بیٹسمینوں میں اظہراکیلا نہیں تھا مگر تین میچز کی ناکامی اور گھٹنے کی انجری نے اظہر علی کو ون ڈے ٹیم سے دور کردیاجبکہ نیوزی لینڈ میں ناکام ہونے والے دیگر بیٹسمین قومی ٹیم کا مسلسل حصہ بنے رہے۔اظہر علی نے اس ناانصافی کو بھی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا اور جنوری میں اپنا آخری ون ڈے کھیلنے کے لگ بھگ دس ماہ بعد ون ڈے انٹرنیشنلز سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سلیکٹرز کو مزید آسانی فراہم کردی جنہیں اظہر علی کو منتخب نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔
ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے اظہر علی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے فیصلے سے سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ کیا تو کچھ لوگوں نے اظہر کو ریٹائرنہ ہونے کا مشورہ ضرور دیا ۔اظہر علی نے اُن خیر خواہوں کا نام تو ظاہر نہیں کیا مگر اظہر علی نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس کے باوجود ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا حالانکہ ورلڈ کپ سے چند ماہ قبل ایسا بڑا فیصلہ کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔
اظہر علی نے سات برسوں میں پاکستان کیلئے صرف 53ون ڈے انٹرنیشنلز کھیلے ہیں مگر مشکل وقت میں ون ڈے ٹیم کی کپتانی قبول کرنے اور پاکستان کو چمپئنز ٹرافی میں پہنچانے کے حوالے سے اظہر علی کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور جب بھی ایسے کھلاڑیوں کا ذکر ہوگا کہ جنہوں نے اپنے مفاد پر پاکستان کے مفاد کو ترجیح دی تو اظہر علی کا نام یقینا سرفہرست ہوگا ۔آج پریس کانفرنس میں ون ڈے کیرئیر کے سب سے اہم لمحے کے حوالے سے جب اظہر علی سے کپتانی ملنے کی خوشی اور چمپئنز ٹرافی کی جیت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے کہا گیا تو 146146اجو145145 نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر چمپئنز ٹرافی کی جیت کو اپنے ون ڈے کیرئیر کا سب سے یادگار لمحہ قرار دیا !بس اسی لیے ،اظہرعلی…ہمیشہ پاکستان کیلئے قابل فخر ہے!!

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 174 134 other subscribers