کرکٹ

!عباس ہی «باس» ہے

ابوظہبی میں پاکستان کی جیت کے بعد جب کرکٹ کا ہر ’’ماہر‘‘ فاسٹ بالر محمد عباس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہا تھا اور ہر ٹی وی چینل کے نمائندے محمد عباس کے گھر کے چکر کاٹ رہے تھے تو میں اُس وقت لاہور کے ایک کرکٹ گراؤنڈ میں مستقبل کے کھلاڑیوں کو پریکٹس کرتے ہوئے دیکھنے کیساتھ ساتھ محمد عباس کیساتھ واٹس ایپ پر وائس چیٹ کررہا تھا اور ہم دونوں وہ وقت یاد کررہے تھے جب بہت سے لوگوں کی نظر میں محمد عباس ایک ’’عام سا بالر‘‘ اور صرف ’’ڈومیسٹک کا ہیرو‘‘ تھا جس میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والی کوئی بات نہ تھی۔میں عباس کو بتارہا تھا کہ وہ مختصر سے کیرئیر سے کیا کچھ کرچکا ہے اور جواب میں عاجزی کا پیکر محمد عباس ’’جزاک اللہ، الحمداللہ، اللہ نے بہت عزت دی ہے،آپ کی دعا چاہیے‘‘ کہہ رہا تھا۔ آج محمد عباس دنیا کا بہترین فاسٹ بالر بن چکا ہے جس نے مختلف وکٹوں اور کنڈیشنز میں اپنی نپی تلی بالنگ سے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے اور دنیا مان رہی ہے کہ عباس ہی فاسٹ بالنگ کا ’’باس‘‘ ہے!
مجھے عباس کی کامیابیوں پر یقیناًبہت زیادہ خوشی ہوتی ہے مگر حیرت بالکل نہیں ہوتی اور مجھ سمیت جو لوگ گزشتہ تین سے چار برسوں میں محمد عباس کو ڈومیسٹک کرکٹ میں بالنگ کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں وہ بھی عباس کی کامیابیوں پر حیران نہیں ہوتے کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ کا یہ ’’پکا‘‘ فاسٹ بالر صرف انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک موقع ملنے کا منتظر تھا کہ اپنی تمام تر مہارت اور تجربے سے دنیا کے نامور بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچا سکے۔
تین سال پہلے محمد عباس کے متعلق پی سی بی کے بہت سے آفیشلز کا ماننا تھا کہ چند سیزن ڈومیسٹک سیزن میں چمکنے کے بعد دائیں ہاتھ کا یہ میڈیم فاسٹ بالر ختم ہوجائے گا کیونکہ اس کی رفتار نہ اسے ٹیسٹ کرکٹ کھلا سکتی ہے اور نہ ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ زیادہ دن چل سکے گا ۔ اس لیے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ محمد عباس کی بات کرنے پر تو کچھ لوگوں نے باقاعدہ قہقہے لگا کر کہا تھا کہ ’’ٹیسٹ کرکٹ عباس کے بس کی بات نہیں‘‘یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ شور مچانے پر محمد عباس کو 2016ء میں اے ٹیم کیساتھ انگلینڈ بھیج دیا گیا مگر وہاں بھی دائیں ہاتھ کے سوئنگ بالر کو زیادہ مواقع نہ دیے گئے ۔کل تک جو لوگ محمد عباس کی بالنگ کا مذاق اُڑاتے تھے آج وہی لوگ اسے دنیا کا بہترین فاسٹ بالر قرار دے رہے ہیں۔
کیا یہ ہمارے نظام کی ناکامی نہیں ہے کہ محمد عباس جیسا فاسٹ بالر مسلسل دو فرسٹ کلاس سیزنوں میں سب سے زیادہ (132)وکٹیں لینے کے باوجود پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اہل نہ سمجھا گیا بلکہ گریڈ ٹو کے سیمی فائنل میں جب محمد عباس نے سیالکوٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے مصباح الحق کی ٹیم فیصل آبادکیخلاف 14 وکٹیں اپنے نام کیں تو پاکستانی ٹیم کا کپتان ، محمد عباس کو ویسٹ انڈیز لے گیا جو واضح طور پر محمد عباس کیلئے پہلا اور آخری موقع تھا۔ بعض اوقات یہ سوچتے ہوئے ہی مجھے جھرجھری سی آجاتی ہے کہ اگر عباس گریڈ ٹو میں مصباح الحق کے سامنے پرفارمنس نہ دکھاتا تو شاید آج عباس ابوظہبی میں پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کرنے کی بجائے قائد اعظم ٹرافی میں کے آر ایل کی نمائندگی کررہا ہوتا۔محمد عباس کی قسمت میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ عزت و توقیر لکھی ہوئی تھی ورنہ ہماری کرکٹ کے نظام نے اس غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بالر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آج دنیائے کرکٹ کے بڑے اور نامور کھلاڑی محمد عباس کو موجودہ دور میں فاسٹ بالنگ کا ’’باس‘‘ قرار دے رہے ہیں اور میں اُن لوگوں کے بارے میں سوچ رہا ہے جو کئی کھلاڑیوں کے کیرئیر سے کھیلنے کے باوجود آج بھی پاکستان کرکٹ کے ’’باس‘‘ بنے ہوئے ہیں!

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 174 134 other subscribers