Cricket

ڈومیسٹک کرکٹ کو عزت دو

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں سب کچھ خدا کے بھروسے پر چل رہا ہے جس کو بہتر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی ۔دنیا کے دیگر ممالک کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی خامیاں موجود ہیں مگر جو کچھ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ہوتا آیا ہے اور ہورہا ہے اس کا مقابلہ کسی بھی ملک سے نہیں کیا جاسکتا ۔
وکٹوں کے معیار اور بیٹسمینوں کے ٹمپرامنٹ کی بات کریں تو کوئی اچھی خبر موجود نہیں ہے ۔ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد کی وکٹ کو کسی زمانے میں عظیم آسٹریلین فاسٹ بالر ڈینس للی نے بالرز کا قبرستان قرار دیا تھا مگر اب فیصل آباد کا یہ میدان بالرز پر پوری طرح مہربان ہے ۔ جہاں گرین ٹاپ وکٹ پر نیشنل بنک کی ٹیم محض44پر ڈھیر ہوجاتی ہے جبکہ اگلے میچ میں دفاعی چمپئن سوئی نادرن گیس کو جنید خان کو صرف 35رنز پر پویلین میں قید کردیتا ہے ۔دو سیزنوں سے اقبال اسٹیڈیم کی وکٹ بیٹسمینوں کیلئے تباہی کی داستان ثابت ہوئی ہے جہاں کبھی پوری ٹیم پچاس رنز بھی نہیں بنا پاتی اور اکثر دو یا تین دن میں میچ ختم ہوجاتا ہے مگر ڈومیسٹک کرکٹ کے کرتا دھرتا آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
قائد اعظم ٹرافی کے چھٹے راؤنڈ میں اسلام آباد کے مرغزار گراؤنڈ میں صرف 37گیندوں بعد کھیل روک دیا گیا کیونکہ واپڈا کے کپتان سلمان بٹ نے ’’خطرناک‘‘ وکٹ کی شکایت کی تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک دن پہلے وکٹ کا معائنہ کرتے ہوئے امپائرز اور میچ ریفری کو وکٹ میں موجود ’’خطرہ‘‘ نہ بھانپ سکے اور ٹاس سے پہلے بھی کسی کو اس وکٹ کی حالت پر شک نہ ہوا مگر چھ اوورز کے کھیل کے بعد وکٹ کو خطرناک قرار دے کر میچ ختم کردیا گیا ۔خطرناک وکٹ پر ہونے والے کھیل کی ویڈیو دیکھیں تو اس میں کہیں بھی ’’خراب‘‘ وکٹ ہونے کا شائبہ نہیں ہوتا مگر ایک ٹیم کے کپتان کے کہنے پر میچ روک دیا گیا جبکہ امپائرز اور میچ ریفری نے اپنی اتھارٹی کا استعمال کیے بغیر سر تسلیم خم کردیا۔
ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ کے چھوٹے بھائی چند سال پہلے امپائر بننے کے بعد دھڑا دھڑ ایل بی ڈبلیو دے کر ریکارڈ پر ریکارڈز قائم کیے جارہے ہیں ۔کبھی وہ بیٹسمین کے سامنے سے جانے والی گیند کو وائیڈ قرار دے کر مذاق کا نشانہ بنتے ہیں مگر پی سی بی نے رشید فیملی کے اس امپائر کی بہترین فیصلہ سازی کی قوت کو خراج تحسین دیتے ہوئے انہیں سنٹرل کانٹریکٹ سے نواز دیا ہے جس میں پانچ امپائرز ایسے ہیں جن کے میچز کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے اور دو امپائرز نے گزشتہ سیزن میں اپنے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا ہے۔امپائرز اور ریفری کو میچز الاٹ کرنے میں بھی پی سی بی کی بندر بانٹ جاری ہے جس میں من پسند امپائرز کو میچز دے دیے جاتے ہیں جو کسی بڑے کرکٹر کے سامنے امپائرنگ کرتے ہوئے کانپ رہے ہوتے ہیں۔
ڈومیسٹک کرکٹ کا شیڈول بناتے وقت نہ کبھی موسم کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک ٹیم کو کتنا زیادہ سفر کرنا پڑے گا۔ رواں سیزن میں ایک ٹیم کو راولپنڈی میں میچ ختم کرنے کے بعد اگلے دن کراچی کا سفر اختیار کرنا پڑا جہاں اگلے دن اس ٹیم کو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا تھا۔شیڈول ترتیب دیتے وقت یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ عاشورہ کی تاریخیں کب ہیں اور عید کی چھٹیاں کن دنوں میں آرہی ہیں جس کی وجہ سے عین وقت پر تاریخیں تبدیل کی جاتی ہیں۔ گزشتہ سیزن میں قائد اعظم ٹرافی کے دوران قذافی اسٹیڈیم ایک فرنچائز کو دے دیا گیا جس کے سبب قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے دو فرسٹ کلاس میچز کو دیگر وینیوز پر منتقل کیا گیا ۔
وینیوز کی بات ہورہی ہے تو ایل سی سی اے گراؤنڈ کے حوالے سے مصباح الحق اور ڈائمنڈ گراؤنڈ اسلام آباد کے متعلق عمران فرحت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔قذافی اسٹیڈیم کی بغل میں موجود ایل سی سی اے گراؤنڈ پر پہلے پانچ راؤنڈز تک میدان کا گھاس تک نہیں کاٹا جاسکا اور بھاری آؤٹ فیلڈ کے سبب نہ صرف کھلاڑی ان فٹ ہوئے بلکہ اسکورنگ کی رفتار بھی سست رہی۔ کسی میدان پر کرسیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، کہیں واش رومز میں پانی دستیاب نہیں ہے ، کہیں سائٹ اسکرین پوری نہیں ، اکثر وینیوز پر ویڈیو اینالسٹ کیلئے کوئی سہولت نہیں ہے ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ بھی اس حوالے سے زیادہ فعال دکھائی نہیں دیتا ۔دیگر ممالک میں بال ٹو بال اپڈیٹ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے مگر پی سی بی اپنی پرانی روایت کو برقرار رکھے ہوئے شام سات بجے سے پہلے میچز کے اسکور کی تفصیلات فراہم نہیں کرتا۔ اس لحاظ سے براہ راست اسٹریمنگ کا تو سوچا بھی نہیں جاسکتا جبکہ دیگر ملکوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کے میچز نہ صرف یو ٹیوب پر لائیو دکھائے جارہے ہیں بلکہ ریڈیو پر ان کی کمنٹری بھی نشر ہوتی ہے۔کھلاڑیوں کے اعدادوشماراور سنگ میل پر بھی کوئی توجہ نہیں جاتی بلکہ اکثر اوقات پی سی بی کے علم میں بھی نہیں ہوتا کہ فلاں میچ میں کوئی ریکارڈ بن چکا ہے ۔
ان تمام عوامل کا تعلق صرف اورصرف دلچسپی سے ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تمام تر دلچسپی کا محور پی ایس ایل ہے جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ڈومیسٹک کرکٹ پر اور بھی بہت کچھ لکھا اور کہا جاسکتا ہے مگر میں ہاتھ جوڑ کر پی سی بی سے صرف اتنا کہوں گا کہ ’’ڈومیسٹک کرکٹ کو عزت دو‘‘

Add Comment

Click here to post a comment

Subscribe to Blog360

Enter your email address to subscribe to Blog360 and receive notifications of new posts by email.

Join 175,097 other subscribers